بنگلورو،11؍اگست(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے زرعی زمین کی خریداری کے لئے آمدنی کی حد کو ختم کرنے کی تجویز کی کسانوں نے سخت مخالفت کی ہے۔ کرناٹکا راجیہ رعیت سنگھا اور ہسرو سینا نے مرکزی حکومت کی طرف سے ایسے قانون کو کسانوں کے لئے موت کا فرمان قرار دیا ہے۔
رعیت سنگھا نے کہا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کو زراعت سے جوڑنے کے بہانے مرکزی حکومت کسانوں سے زمینات چھین لینا چاہتی ہے۔ اس سے روایتی کاشتکاری سے جڑے کسانوں کی زندگی ختم ہوجائے گی۔ رعیت سنگھا کے ریاستی صدر گوڑی ہلی چندر شیکھر نے کہاکہ ریاست کے اراضی اصلاحات ضابطہ 61 کے تحت زرعی زمین کی خریداری کے لئے سالانہ آمدنی کی حد 12؍ ہزار روپے مقرر کی گئی تھی، 1991 میں ترمیم کرتے ہوئے اسے 50ہزار روپے کیا گیا۔
دیوے گوڈا کے دور اقتدار میں اس حد کو بڑھا کر دو لاکھ روپے کیا گیا ، جبکہ سدرامیا کے دور اقتدار میں یہ حد دس گنا بڑی اور سالانہ آمدنی کی حد کو 25لاکھ روپے کیاگیا۔ لیکن موجودہ انتظامیہ کی طرف سے اس حد کو ختم کردینے کا منصوبہ مرتب کیا جارہا ہے۔اگر اس حد کو ختم کردیا گیا تو کارپوریٹ اور رئیل ایسٹیٹ کی تجارت سے وابستہ طبقات رشوت خورسیاست دانوں سے مل کر زرعی زمینات ہڑپنے پر اتر پڑے گا۔ پہلے ہی کروڑ پتیوں نے بنگلور کے اطراف واکناف ہزاروں ایکڑ زرعی زمینات پر قبضے جمالئے ہیں، اگر ان لوگوں کو موقع ملا تو ریاست بھر کی زمینات پر بھی قبضے جمانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔